جامعۃ الرشید: کرپٹو اسپاٹ ٹریڈنگ کا حکم پروجیکٹ اور قانونی حالات پر منحصر ہے
جامعۃ الرشید کراچی کے دارالافتاء نے فیوچرز، آپشن، مارجن اور اسپاٹ کو الگ کیا اور اسپاٹ کے لیے پروجیکٹ، حکومتی ممانعت اور قانونی حیثیت کی شرائط بیان کیں۔
2025 کے اس عوامی جواب میں کرپٹو ٹریڈنگ کو فیوچرز، آپشن، مارجن اور اسپاٹ میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جواب کے مطابق فیوچرز میں حقیقی لین دین کے بجائے قیمت کے فرق سے نفع و نقصان برابر کیا جاتا ہے، اس لیے اسے قمار کہا گیا؛ آپشن میں اختیار کو پریمیم کے بدلے فروخت کیا جاتا ہے؛ اور سودی قرض سے مارجن ٹریڈنگ میں ربا شامل ہوتا ہے۔
اسپاٹ کے لیے جواب دیکھتا ہے کہ ٹوکن کے پیچھے پروجیکٹ جائز ہے یا نہیں، حکومت نے تجارت منع کی ہے یا نہیں، اور متعلقہ ملک میں اسے قانونی یا عرفی حیثیت اور حکومتی پشت پناہی حاصل ہے یا نہیں۔ یہ ہر اسپاٹ ٹوکن کی غیر مشروط اجازت نہیں دیتا؛ اسی لیے ریکارڈ کو “شرائط کے ساتھ” درج کیا گیا ہے، “جائز” نہیں۔
