بنوری ٹاؤن دارالافتاء: بٹ کوائن اور ملتی جلتی ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری جائز نہیں

فتویٰ نمبر 144208200460 میں بنوری ٹاؤن دارالافتاء نے بٹ کوائن اور ملتی جلتی ڈیجیٹل کرنسی کو مطلوبہ شرعی معنی میں کرنسی یا مال نہ مانتے ہوئے لین دین، سرمایہ کاری اور کاروبار کو ناجائز کہا۔

學者或機構名稱 جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن — دارالافتاء
主體類型 institution
所屬機構 جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
國家或適用地區 پاکستان
加密活動 general-crypto
觀點結論 prohibited
來源類型 fatwa
來源標題 بٹ کوئن (ڈیجیٹل کرنسی) میں سرمایہ کاری (کاروبار) کرنے کا حکم
來源發布時間 2021-03-23T00:00:00+05:00
頁碼、章節或時間點 جواب کا پیراگراف؛ فتویٰ نمبر 144208200460
是否一手來源
最後核查時間 2026-08-01T14:32:32+08:00
證據摘要 ادارے کے سرکاری صفحے پر جواب بٹ کوائن اور ملتی جلتی کرپٹو کرنسیوں کو مطلوبہ مادی وجود، کرنسی یا مال کی حیثیت نہ رکھنے کی بنیاد پر ان میں لین دین، سرمایہ کاری اور کاروبار کو ناجائز قرار دیتا ہے۔
條件與限制 یہ ریکارڈ اسی صفحے میں پوچھے گئے بٹ کوائن اور ملتی جلتی ڈیجیٹل کرنسی کے لین دین، سرمایہ کاری اور کاروبار تک محدود ہے؛ اسے ہر بلاک چین استعمال یا حقیقی اثاثے سے منسلک ٹوکن پر قیاس نہیں کیا گیا۔

یہ ریکارڈ بنوری ٹاؤن دارالافتاء کے فتویٰ نمبر 144208200460 کو مرتب کرتا ہے۔ سوال بٹ کوائن میں سرمایہ کاری یا کاروبار کے بارے میں تھا۔ جواب میں بٹ کوائن اور اسی طرح کی کرپٹو کرنسیوں کو مطلوبہ شرعی معنی میں مادی وجود، کرنسی یا مال نہ مانتے ہوئے ان کے ذریعے لین دین، سرمایہ کاری اور کاروبار کو ناجائز کہا گیا ہے۔

یہ صرف متعلقہ ادارے کی اسی فتویٰ میں درج رائے کا خلاصہ ہے۔ یہ ہماری طرف سے فتویٰ نہیں، اور اسے تمام بلاک چین ٹیکنالوجی یا ہر ٹوکن کے الگ طریقۂ کار پر خودکار طور پر لاگو نہیں کیا گیا۔ مکمل اردو اصل متن پڑھنا ضروری ہے۔